10 اگست 2013 - 19:30
روس اور امریکا کے تعلقات کشیدہ، الزامات کا سلسلہ جاری

روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے واشنگٹن میں روس اور امریکہ کے وزرائے خارجہ اور وزرائے دفاع کی ملاقات کے بعد اعلان کیا ہے کہ روس اور امریکہ آپس میں سرد جنگ نہیں لڑ رہے بلکہ دوطرفہ تعاون جاری رکھے ہوئے ہیں۔

ابنا: اسنوڈن کے معاملے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ایک غیرمعمولی معاملہ ہے لیکن یہ اس قدر اہم نہیں کہ وسیع پیمانے پر روس و امریکہ کے تعلقات پر اثرانداز ہو۔ روسی وزیر خارجہ نے کہا کہ سی آئی اے کے سابق ایجینٹ ایڈورڈ اسنوڈن کو پناہ دے کر روس نے قومی اور بین الاقوامی قوانین پر عمل کیا ہے۔دریں اثنا امریکہ کے صدر باراک اوباما نے واشنگٹن میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کو روس کے ساتھ تعلقات پر نظرثانی کرنے کے لیے وقت چاہئے۔ اوباما کے مطابق، امریکہ اور روس کے درمیان کسی حد تک بحران برپا ہو گیا ہےتاہم اوباما کے مطابق، روس کے رہنما ولادی میر پوتین کے ساتھ ان کے تعلقات معمول کے مطابق ہیں اور وہ تمام مسائل پر کھلم کھلا اور تعمیری طریقے سے تبادلہ خیال کرتے ہیں۔ ساتھ ہی صدر امریکہ نے کہا کہ اسنوڈن کا معاملہ امریکہ اور روس کے درمیان اختلافات کی واحد وجہ نہیں ہے۔دوسری جانب روس اور امریکہ نے کئی نئے دستاویزات تیار کئےہیں جن پر دوطرفہ سربراہی ملاقات میں دستخط کئے جانے کا امکان ہے۔ یہ بات روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروو نے کہی۔  ان کے مطابق، ان دستاویزات میں روس اور امریکہ کے ہمہ گیر تعاون اور دوطرفہ معاشی و تجارتی تعلقات کے فروغ جیسے مسائل شامل ہیں۔ روسی وزیر خارجہ نے کہا کہ روس دوطرفہ تعلقات میں معیشت کا کردار بڑھانا چاہتا ہے۔میزائل شکن دفاعی نظام کے مسئلہ  کی جانب اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جوہری خطرات کو کم کرنے کی خاطر قومی مراکز کی سرگرمیوں میں تیزی لائے جانے کا معاہدہ تیار کیا جا چکا ہے۔ علاوہ ازیں انسداد منشیات اور سائنس کے میدان میں باہمی تعاون کو فروغ دئے جانے کا  معاہدہ بھی آمادہ ہے۔

.......

/169